چنتامنی:23 /نومبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)کرناٹک ایک ایسی ریاست ہے جہاں پر تمام زبانوں کو برابر حق حاصل ہے یہاں کی ریاستی زبان کنڑا ہے، کسی شک وشبہ کے یہ ریاست تمام زبانوں کو اپنی گود میں لیکر چلتی ہے خصوصاََ لسانی اقلیتی طبقے کو یہاں پر دوسری ریاستوں سے زیادہ حق حاصل ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ریاست کی زبان ہی پر توجہ دیں قوم و ملک کی ترقی کیلئے اقلیتی طبقے کو اکثریتی طبقے کو ساتھ لیکر مقامی زبان پر عبور حاصل کرنا چاہئے ۔ موجود دور میں کنڑا کی تہذیب اور ثقافت صرف نعروں اور اشتہارات تک ہی محدود رہ گئی ہے ۔اگر کنڑا زبان کی اس بگڑتی ہوئی حالت مزید چند سالوں تک جاری رہے گی تو عین ممکن ہے کہ آنے والے دو سوسالوں میں کنڑا زبان بھی تاریخ کے گمنام صفحوں کی زینت بن جائے گی اور کنڑا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ان خیالات کااظہار وظیفہ یاب ڈی ۔ڈی۔پی۔آئی۔افسر سی ۔بی۔ ہنومنتپا نے کیا۔آج شہر کے سرکاری ڈیلیجنس ہائی اسکول کے احاطے کنڑا ساہتیہ اسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ کنڑا کارنجی پروگرام کا افتتاح کرنےکے بعد خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کنڑا زبان کو تباہ ہونے سے بچایا جائے اکثر والدین اپنے بچوں کو انگریزی زبان سیکھانے پر زیادہ ترجیح دیتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ کنڑیگاؤں میں زبان کے بارے میں عام بیداری لانے کے علاوہ ہر ایک فرد کو کنڑا زبان کا تحفظ کرنے کیلئے باغ کے پہرے دار کی طرح زبان کا پہرہ دار بننا چاہئے کرناٹکا کے نوجوان طبقہ کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں زبان کی ترقی اور تحفظ کی ذمہ داری سونپی جانی چاہئےاس موقع پر پرائمری ٹیچرس اسوسی ایشن سکریٹری دامودر ریڈی نے بھی خطاب کیا اس موقع پر ہیڈ ماسٹر کے۔ایم۔سباریڈی ایس۔ایف۔ایس۔سوریش کے ایس نور اللہ این گنگا دھرا ٹیچر رام چندرہ سنگھ ایم۔راجنا وغیرہ موجود رہے۔